13 مارچ 2012 - 20:30

بحرین پر سعودی عرب کے فوجیوں کے غاصبانہ قبضے کی پہلی برسی ایسی صورت میں منائی گئی کہ اس ملک کے 14/ فروری کے اتحاد اور الوفاء اسلامی دھڑے نے ایک بیان میں 13/ مارچ کو سعودی عرب کے غاصبانہ قبضے کے مقابلے میں مزاحمت کے قومی دن کا عنوان دیا ہے۔

ابنا: جزیرۂ سترہ کے شہریوں نے بھی بحرین میں سعودی فوجیوں کی جاری موجودگی کے خلاف احتجاج کے طور پر عام ہڑتال کی جس کے نتیجے میں سترہ کے تمام تجارتی مراکز ۔ دوکانیں اور اسکول و مدارس بند رہے جبکہ اس ملک میں آل خلیفہ اور آل سعود کے جرائم کے خلاف عوامی جوش و جذبہ بدستور بڑھتا جا رہا ہے اور عوام نے ابھی اس بات کو فراموش نہیں کیا ہے کہ گذشتہ سال 14/ مارچ کو آل خلیفہ اور آل سعود حکومتوں کے فوجیوں نے بحرین میں عوام کے پرامن مظاہرے کو کس طرح سے کچلا اور لوگوں کو خاک و خون میں غلطاں کیا۔ اس دن سعودی عرب کےغاصب فوجیوں نے بحرینی عوام کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کرکے احتجاج کرنے والے مظاہرین کی ایک تعداد کو خون میں نہلا دیا تھا۔ 13/ مارچ سنہ 2011 کو بحرین کی آل خلیفہ حکومت کی درخواست پر سعودی عرب کے ایک ہزار فوجیوں نے متحدہ عرب امارات کے کچھہ فوجیوں کے ہمراہ سرزمین بحرین پر قدم رکھا تاکہ بحرینی حکمرانوں کے وحشیانہ جرائم میں اپنا بھرپورکردار ادا کرسکیں ۔ یہ فوجی آل خلیفہ حکومت کی ڈھال کے طور پر بحرین بلائے گئے جبکہ اس ملک کو کوئی بیرونی خطرہ بھی نہیں تھا اور بحرین کے عوام پرامن طور پر حکومت سے اپنے پائمال شدہ حقوق اور منطقی مطالبات کررہے تھے مگر ان کے ان مطالبات کا جواب گولیوں۔ گرفتاریوں اور قید کی صعوبتوں سے دیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بحرین میں سعودی فوجی اس ملک کی آل خلیفہ حکومت کو بچانے اور بنیادی طور پر امریکہ کی ہری جھنڈی سے داخل ہوئے اسلئے کہ امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا بحرین کے ساحل پر ہی تعینات ہے اوراس ملک کی سلامتی نیز آل خلیفہ حکوت کا تحفظ وہائٹ ہاؤس کیلئے ہمیشہ اہمیت کا حامل بنا رہا ہے۔علاوہ ازیں اس رو سے کہ ریاض کو بحرین کے انقلاب کے سعودی عرب میں سرایت کرجانے کا بہت زیادہ خوف تھا وہ یہ تصور کررہا تھا کہ بحرین فوج بھیج کر حریت و اصلاح پسندی کا گلا گھونٹا جا سکتا ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران بحرین کی سیکورٹی فورسیز نے سعودی عرب اور خلیج فارس کے جنوبی علاقے کے تمام ملکوں کی فوجی حمایت و امداد سے اپنے ملک کے بے گناہ عوام کے خلاف کسی بھی قسم کے وحشیانہ جرائم کے ارتکاب سے گریز نہیں کیا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی ادارے نے ابتک اس ملک کے گذشتہ ایک سال کے واقعات کے سلسلے میں خواہ وہ سعودی فوجیوں کی جانب سے اس ملک پر قبضہ کیا جانا ہو یا آل خلیفہ حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو کوئی اقدام نہیں کیا ہے۔ بحرین کے واقعات اور اس ملک کے عوام کے خلاف آل خلیفہ حکومت کے جرائم کے بارے میں عالمی اداروں کی خاموشی اور عالمی برادری کی لا تعلقی و لاپرواہی بحرینی حکومت کے وحشیانہ جرائم جاری رہنے کا باعث بنی ہے۔ اس وقت امریکہ اور سعودی عرب ایسے دو ممالک ہیں کہ جن کے سہارے آل خلیفہ حکومت اقتدار میں کچھہ اور عرصے باقی رہنے کی کوشش کررہی ہے تاہم سوال یہ ہے کہ آیا ظالمانہ حکومتوں کے سہارے آمرانہ حکومتیں ایسی قوموں کے سامنے کہ جنھوں نے اصلاحات اور اپنے ملک کا سیاسی نظام حکومت تبدیل کرنے کا پختہ عزم و ارادہ کررکھا ہے طویل عرصے ٹکی رہ سکتی ہیں؟ بحرین کی قوم گذشتہ ایک سال سے نہ صرف آل خلیفہ حکومت کی سیکورٹی فورسیز بلکہ سعودی فوجیوں اور اس ملک سے متعلق سینکڑوں ٹینکوں کے مقابلے میں اپنی استقامت جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اس وقت بھی بحرین کے مختلف شہروں کی سڑکیں ایسے لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہیں جو انصاف و آزادی کے ساتھہ ساتھہ اپنے ملک کے سماج و معاشرے سے امتیازی سلوک کا خاتمہ چاہتے ہیں اور اپنے اس مقصد کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں۔ چنانچے بحرین کے سیاسی گروہوں اور عوام نے تاکید کے ساتھہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول تک سعودی عرب کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے انقلاب کا عمل جاری رکھیں گے اور انھیں بحرینی اور سعودی فوجیوں کا کوئی خوف نہیں ہے۔ ........

/169